بھٹکل 15/ اکتوبر (ایس او نیوز) اسمبلی الیکشن کے دن جیسے جیسے قریب آتے ہیں ویسے ویسے سیاسی پارٹیوں کے کرتب اور پینترے بازیاں تیز ہوتی جاتی ہیں ۔ اسی قسم کی سرگرمیاں اب بھٹکل اسمبلی حلقہ میں بھی دکھائی دینے لگی ہیں، جہاں بی جے پی اور کانگریس پارٹی میں راست مقابلہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ یہ مان رہا تھا کہ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریسی امیدوار سابق ایم ایل اے منکال وئیدیا اور بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے سنیل نائک کے درمیان جو زبردست ٹکراو ہوا تھا اسی قسم کی بات اس مرتبہ بھی دیکھنے مل سکتی ہے کیونکہ منکال وئیدیا نے کانگریس سے باضابطہ امیدواری کی خواہش ظاہر کی تھی اور اس کے لئے اپنے طور پر کانگریس پارٹی کی ریاستی ہائی کمان سے رابطہ بنائے رکھنے کی خبریں مل رہی تھیں ۔ چونکہ ایک ووٹرس کا ایک طبقہ سمجھ رہا ہے کہ سنیل نائک کے خلاف بی جے پی کے اندر ہی ماحول بنا ہوا ہے اس لئے پارٹی کی طرف سے ٹکٹ ملنا مشکل ہے اور اگر ٹکٹ مل بھی گیا تو منکال کے سامنے سنیل نائک کا پلڑا تھوڑا ہلکا پڑنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔
مگر اب اچانک کانگریس کے اندر طبقاتی کشمکش کا ایک طوفان ہلکے ہلکے سر اٹھانے لگا ہے اور خبریں آ رہی ہیں کہ حلقہ میں آبادی کے لحاظ سے اکثریت رکھنے والے نامدھاری طبقہ کا ایک محاذ بن گیا ہے جس کا مطالبہ ہے کہ اس مرتبہ کانگریس پارٹی کی طرف سے صرف نامدھاری امیدوار کو ہی ٹکٹ دیا جانا چاہیے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منکال وئیدیا موگیر ہونے کی وجہ سے غیر نامدھاری زمرے میں آتے ہیں اس لئے انہیں ٹکٹ دینا کانگریسیوں کو پسند نہیں ہے۔
اب اگر کانگریس سے وابستہ امیدواری کے خواہشمند نامدھاری لیڈروں کی بات کریں تو سب سے پہلا نام سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک کا ہے ۔ اس کے ساتھ سابق وزیر آر این نائک کا نام بھی سننے میں آتا ہے ۔ اس کے علاوہ بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک، سابق ضلع پنچایت صدر دیپک ننائک اور دیگر کچھ لوگوں کے نام بھی سننے میں آ رہے ہیں ۔ ان سب کا خیال ہے کہ اس حلقے میں چونکہ نامدھاریوں کی تعداد 70 ہزارسے زائد ہے اور وہ اکثریت میں ہیں، اس لئے مسلمانوں کے ووٹوں کو ساتھ جوڑیں تو کانگریسی امیدوار آسانی سے بی جے پی کو شکست دے سکتا ہے ۔ جبکہ غیر نامدھاری امیدوار کو ٹکٹ دینے کی صورت میں کانگریس کی پوزیشن مستحکم نہیں رہے گی ۔
ادھر مسلم ووٹوں کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں کانگریس پارٹی اور جے ڈی ایس سے باضابطہ امیدواری کی خواہش رکھنے والوں کے ساتھ اب عام آدمی پارٹی (عآپ) سے امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان ہوا ہے ، اس کے علاوہ آزاد امیدوار مقابلہ میں آنے کے امکانات سے بھی پوری طرح انکار نہیں کیا جا سکتا ۔
اسی دوران باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف نامدھاری امیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس طبقہ کے ایک مضبوط وفد نے کانگریس کے سینئر لیڈر سدارامیا، کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار اور کانگریس ہائی کمان کے بہت قریبی سمجھے جانے والے ضلع کے سینئر کانگریسی لیڈر آر وہ دیشپانڈے سے ملاقات کی ہے
سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والوں کو کہنا ہے کہ اگر کانگریس پارٹی کسی نامدھاری کو ٹکٹ نہیں دیتی تو پھر اس کے بعد اس طبقہ میں جو پھوٹ پڑے گی اس کا فائدہ موجودہ ایم ایل اے سنیل نائک یا پھر دوسرے بی جے پی امیدوار کو ملے گا ۔ مگر چونکہ نامدھاریوں کے بعض حلقوں میں ہی بی جے پی رکن اسمبلی کے سنیل نائک کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں اس لئے سنیل نائک کو بی جے پی کا ٹکٹ دینا پارٹی کے لئے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے ۔ اور اس کا فائدہ کانگریس پارٹی کو مل سکتا ہے ۔
بہرحال سیاسی ڈرامے بازی اب شروع ہوچکی ہے اور ابھی ڈراپ سین سے پہلے بہت سارے کردار اور سین بدلنے والے ہیں، جس کے لئے انتظار شرط ہے ۔